امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمر بن حفص نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی‘ از الاعمش‘ انہوں نے کہا: میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا‘ انہوں نے کہا:
میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے پاس تھا‘ حضرت ابوموسیٰ نے حضرت ابن مسعود سے کہا: اے ابوعبدالرحمٰن! جب ایک آدمی جنبی ہو جائے اور وہ پانی نہ پائے تو وہ کیا کرے؟ حضرت ابن مسعود نے کہا: وہ نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ وہ پانی پالے‘ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: پھر آپ حضرت عمار کی اس حدیث کی کیا توجیہ کریں گے جب ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے یہ کافی تھا؟ حضرت ابن مسعود نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر اس حدیث سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اچھا! حضرت عمار کی حدیث کو چھوڑیں‘ یہ بتائیں کہ آپ اس آیت تیمم کا کیا جواب دیں گے؟ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کی سمجھ میں نہیں آیا‘ وہ کیا جواب دیں۔ تب انہوں نے کہا: بے شک اگر ہم اس صورت میں لوگوں کو تیمم کی اجازت دے دیں تو قریب ہے کہ ان لوگوں میں سے کسی کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ پانی کو چھوڑ کر تیمم کرے گا۔
اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا: کیا حضرت ابن مسعود صرف اس وجہ سے جنبی کے لیے تیمم کو مکروہ کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں!
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ
كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي مُوسَى، فَقَالَ لَهُ أَبُو مُوسَى: أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِذَا أَجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ مَاءً، كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لاَ يُصَلِّي حَتَّى يَجِدَ المَاءَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ حِينَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْفِيكَ؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَ عُمَرَ لَمْ يَقْنَعْ بِذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى: فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الآيَةِ؟ فَمَا دَرَى عَبْدُ اللَّهِ مَا يَقُولُ، فَقَالَ: إِنَّا لَوْ رَخَّصْنَا لَهُمْ فِي هَذَا لَأَوْشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ المَاءُ أَنْ يَدَعَهُ وَيَتَيَمَّم، فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُ اللّهِ لِهَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ
Reference: Sahih Al Bukhari 346