امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی‘ ح؛ (امام بخاری دوسری سند کی طرف متحول ہوئے) کہا: اور مجھے سعید بن نضر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ہشیم نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں سیار نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں یزید نے حدیث بیان کی اور وہ ابن صہیب الفقیر ہے‘ انہوں نے کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے ایسی پانچ چیزیں دی گئی ہیں‘ جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں‘ میری ایسے رعب سے مدد کی گئی ہے‘ جو ایک ماہ کی مسافت سے طاری ہوتا ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے‘ پس میری امت میں سے جو شخص بھی جس جگہ بھی نماز کا وقت پا لے‘ وہ وہیں نماز پڑھ لے اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کر دیا گیا ہے اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے ان کو حلال نہیں کیا گیا‘ اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے اور (پہلے) نبی کو کسی خاص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ هُوَ العَوَقِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ ح وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا سَيَّارٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ الفَقِيرُ، قَالَ أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتْهُ الصَّلاَةُ فَلْيُصَلِّ، وَأُحِلَّتْ لِي المَغَانِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ خَاصَّةً وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً
Reference: Sahih Al Bukhari 335