(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں عبدالرحمن بن المبارک نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ایوب اور یونس نے از حسن از الاحنف بن قیس حدیث بیان کی، انہوں نے کہا:
میں اس شخص (حضرت علی رضی اللہ عنہ) کی مدد کے لیے گیا تو مجھے حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ ملے، پس مجھ سے پوچھا: تمہارا کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا: میں اس شخص کی مدد کروں گا، انہوں نے کہا: واپس جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب دو مسلمان اپنی تلواروں سے لڑتے ہیں تو قاتل اور مقتول دونوں دوزخ میں ہوں گے، پس میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو قاتل ہے، پس مقتول (کے دوزخی ہونے) کا کیا سبب ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ بھی تو اپنے ساتھی کے قتل پر حریص تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ
ذَهَبْتُ لِأَنْصُرَ هَذَا الرَّجُلَ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ: أَيْنَ تُرِيدُ؟ قُلْتُ: أَنْصُرُ هَذَا الرَّجُلَ. قَالَ: ارْجِعْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا، فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ؟ قَالَ: إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 31