(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از واصل الاحدب از المعرور، انہوں نے کہا:
میری حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ربذہ میں ملاقات ہوئی، ان پر بھی حُلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی حُلہ تھا، میں نے ان سے اس کا سبب پوچھا، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو بُرا کہا تھا، میں نے اس کو اس کی ماں سے عار دلایا، تو مجھ سے نبی ﷺ نے فرمایا: اے ابوذر! کیا تم نے اس کو اس کی ماں سے عار دلایا ہے؟ تم ایسے شخص ہو کہ تم میں جاہلیت کی خصلت ہے، تمہارے خدام تمہارے بھائی ہیں، اللہ نے ان کو تمہارا ماتحت بنا دیا ہے، پس جس شخص کا بھائی اس کا ماتحت ہو تو اس کو وہ کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور اس کو وہ پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان کو اس کام کا مکلف نہ کرو جو ان پر دشوار ہو اور اگر تم ان کو ایسے کام کا مکلف کرو جو ان پر دشوار ہو تو ان کی مدد کرو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ قَالَ
لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَعَيَّرْتُهُ بِأُمِّهِ، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ ﷺ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ؟ إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ.
Reference: Sahih Al Bukhari 30