امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از الاعمش از سالم بن ابی الجعد از کریب از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما از حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا‘
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ستر کیا‘ اور اس وقت آپ غسل جنابت کر رہے تھے‘ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا‘ پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا‘ پھر اپنی شرم گاہ کو اور جو چیز اس پر لگی تھی‘ اس کو دھویا‘ پھر اپنے ہاتھ کو دیوار یا زمین پر ملا‘ پھر نماز کا وضوء کیا‘ سوا اپنے پیروں کے‘ پھر اپنے پورے جسم پر پانی ڈالا‘ پھر ایک طرف جا کر اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
اس حدیث میں ”ستر“ کے لفظ میں سفیان کی ابوعوانہ اور ابن فضیل نے متابعت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ
قَالَتْ سَتَرْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ، فَغَسَلَ فَرْجَهُ، وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ عَلَى الْحَائِطِ أَوِ الأَرْضِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاَةِ، غَيْرَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى جَسَدِهِ الْمَاءَ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ. تَابَعَهُ أَبُو عَوَانَةَ وَابْنُ فُضَيْلٍ فِي السَّتْرِ
Reference: Sahih Al Bukhari 281