(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں ابو الیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے از زہری خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے از حضرت سعد رضی اللہ عنہ خبر دی
کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گروہ کو عطا فرمایا اور حضرت سعد بیٹھے ہوئے تھے اور ایک ایسے شخص کو چھوڑ دیا، جو میرے نزدیک بہت پسندیدہ تھا، میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں شخص کو کیوں نہیں دیا؟ پس اللہ کی قسم! میں اس کو ضرور مومن گمان کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: یا مسلمان! میں کچھ دیر خاموش رہا، پھر اس کے متعلق جو مجھے علم تھا، وہ مجھ پر غالب آیا اور میں نے پھر اپنی بات کو دہرایا، پس میں نے کہا: آپ نے فلاں شخص کو کیوں نہیں دیا؟ پس اللہ کی قسم! میں اس کو ضرور مومن گمان کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: یا مسلمان، پھر اس کے متعلق جو مجھے علم تھا، وہ مجھ پر غالب آیا اور میں نے اپنی بات کو دہرایا اور رسول اللہ صﷺ نے اپنے ارشاد کو دہرایا، پھر آپ نے فرمایا: اے سعد! میں کسی شخص کو عطا کرتا ہوں اور اس کا غیر مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس خوف سے کہ کہ اس کو اللہ دوزخ میں اوندھے منہ گرا دے گا۔
امام بخاری نے کہا: اور اس حدیث کو یونس اور صالح اور معمر اور زہری کے بھتیجے نے زہری سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدٍ ﵁
أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ أَعْطَى رَهْطًا وَسَعْدٌ جَالِسٌ، فَتَرَكَ رَسُولُ اللهِ ﷺ رَجُلًا هُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا. فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي فَقُلْتُ: مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ؟ فَوَاللهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا، فَقَالَ: أَوْ مُسْلِمًا. ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ فَعُدْتُ لِمَقَالَتِي، وَعَادَ رَسُولُ اللهِ ﷺ، ثُمَّ قَالَ: يَا سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللهُ فِي النَّارِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 27