امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے میرے والد نے خبر دی از شعبہ از ابی اسحاق از عمرو بن میمون از حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے ح (امام بخاری دوسری سند کی طرف متحول ہوئے) اور کہا: مجھے احمد بن عثمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شریح بن مسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن یوسف نے حدیث بیان کی از والد خود از ابی اسحاق، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن میمون نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ان کو حدیث بیان کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابو جہل اور اس کے اصحاب وہاں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم میں سے کون ایسا کر سکتا ہے کہ بنو فلاں کے ہاں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے، اس کے بچہ دان کو لے کر آئے اور جب (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سجدہ کریں تو وہ ان کی پشت پر رکھ دے؟ تو قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا، وہ اس بچہ دان کو لے کر آیا، پھر وہ انتظار کرتا رہا، حتیٰ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اس نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت کے اوپر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا اور میں یہ منظر دیکھ رہا تھا اور آپ سے کسی چیز کو دور نہیں کر سکتا تھا، کاش! میرے مددگار ہوتے، حضرت ابن مسعود نے کہا: مشرکین ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کی طرف اس کام کی نسبت کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں تھے، اپنا سر نہیں اٹھا رہے تھے، حتیٰ کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں، پس انہوں نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت سے اٹھا کر پھینک دیا، پھر آپ نے اپنا سر اقدس اٹھایا، پھر آپ نے تین مرتبہ ان کے خلاف دعا کی: اے اللہ! قریش کو پکڑ لے۔ ان پر یہ دعا ناگوار گزری، راوی کا بیان ہے: وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے، پھر آپ نے نام لے کر ان کے خلاف دعا کی: اے اللہ! ابو جہل کو پکڑ لے، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ اور امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ لے اور آپ نے ساتویں کا بھی نام لیا، جس کو راوی نے یاد نہیں رکھا، حضرت ابن مسعود نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کا نام لے لے کر ان کے خلاف دعا کی تھی، میں نے ان سب کو دیکھا، وہ بدر کے کنویں میں اوندھے منہ گرے ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ قَالَ ح وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ
أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عِنْدَ البَيْتِ، وَأَبُو جَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوسٌ، إِذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيءُ بِسَلَى جَزُورِ بَنِي فُلاَنٍ، فَيَضَعُهُ عَلَى ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَى القَوْمِ فَجَاءَ بِهِ، فَنَظَرَ حَتَّى سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَضَعَهُ عَلَى ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ لاَ أُغْنِي شَيْئًا، لَوْ كَانَ لِي مَنَعَةٌ، قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَكُونَ وَيُحِيلُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، حَتَّى جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ، فَطَرَحَتْ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ، قَالَ وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الدَّعْوَةَ فِي ذَلِكَ البَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ، ثُمَّ سَمَّى اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِي جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَالوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ يَحْفَظْ ، قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِينَ عَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَى، فِي القَلِيبِ قَلِيبِ بَدْرٍ
Reference: Sahih Al Bukhari 240