(امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ) ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے از عمرو بن یحییٰ المازنی از والد خود از حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور دوزخ والے دوزخ میں داخل ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر ان لوگوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، جو جل کر سیاہ ہو چکے ہوں گے، پھر ان کو حیاء یا حیات کے دریا میں ڈال دیا جائے گا (اس لفظ میں امام مالک کو شک ہے) پھر وہ اس طرح ترو تازہ ہو جائیں گے، جس طرح سیلاب کے کنارے مٹی میں بیج اگتا ہے، کیا تم نے نہیں دیکھا کہ وہ پیچ در پیچ زرد رنگ میں مڑا ہوا نکلتا ہے؟
وہیب نے کہا: عمرو کی حدیث میں حیات کا لفظ ہے اور کہا: رائی کے دانے کے برابر خیر ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ﵁، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ
يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، ثُمَّ يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا قَدِ اسْوَدُّوا، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرِ الْحَيَا أَوِ الْحَيَاةِ - شَكَّ مَالِكٌ - فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ، أَلَمْ تَرَ أَنَّهَا تَخْرُجُ صَفْرَاءَ مُلْتَوِيَةً
Reference: Sahih Al Bukhari 22