امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں عبدالواحد نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں شیبانی نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن ابی المجالد نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا:
مجھے حضرت عبداللہ بن شداد اور حضرت ابو بردہ رضی اللہ نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ کے پاس بھیجا' ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ ان سے یہ سوال کرنا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب' نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں گندم میں بیع سلم کرتے تھے؟ حضرت عبداللہ نے کہا: ہم اہل شام کے کاشت کاروں سے گندم' جَو اور زیتون کی کیلِ معلوم میں مدتِ معلومہ تک بیع سلم کرتے تھے' میں نے پوچھا: کیا اس کے پاس ان کی اصل (کھیت یا درخت) ہوتی تھی؟ انہوں نے کہا: ہم اس کے متعلق ان سے سوال نہیں کرتے تھے' پھر ان دونوں نے مجھے حضرت عبدالرحمان بن ابزیٰ کے پاس بھیجا تو میں نے ان سے بھی یہ سوال کیا' انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب' نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں بیع سلم کرتے تھے اور ہم ان سے یہ سوال نہیں کرتے تھے کہ ان کا کھیت ہے یا نہیں؟ ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں خالد بن عبداللہ نے حدیث بیان کی از شیبانی از محمد بن مجالد' یہی حدیث مروی ہے اور انہوں نے کہا: ہم گندم اور جَو میں بیع سلم کرتے تھے' اور عبداللہ بن الولید نے کہا از سفیان' انہوں نے کہا: ہمیں شیبانی نے حدیث بیان کی اور کہا: اور زیتون کے تیل میں (بیع سلم) کرتے تھے۔ ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از شیبانی اور کہا: گندم میں اور جَو میں اور کشمش میں (بیع سلم کرتے تھے)۔
ورکشمش اور زیتون کے تیل اور گھی میں بیع سلم کا ثبوت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُجَالِدٍ، بِهَذَا وَقَالَ فَنُسْلِفُهُمْ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ. وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ وَقَالَ وَالزَّيْتِ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ وَقَالَ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 2245