امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبد اللہ بن عبد الوہاب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : ہمیں عوف نے خبر دی از سعید بن ابی الحسن ' انہوں نے بیان کیا کہ
میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابو العباس! بے شک میں ایسا انسان ہوں کہ میرا ذریعہ معاش میرے ہاتھ کی صنعت سے ہے اور میں یہ تصاویر بناتا ہوں ' حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : میں تمہیں وہی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ' آپ نے ارشاد فرمایا : جس نے کوئی تصویر بنائی تو اللہ اس کو اس وقت تک عذاب دیتا رہے گا حتیٰ کہ وہ اس میں روح پھونک دے اور وہ اس میں کبھی بھی روح نہیں پھونک سکے گا ' یہ سن کر اس شخص کا سانس پھول گیا اور اس کا چہرہ زرد ہو گیا ' حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم پر افسوس ہے! اگر تم تصویر کشی کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہو تو تم اس درخت کی تصویر بناؤ اور ہر اس چیز کی جس میں روح نہ ہو۔
امام ابو عبد اللہ نے کہا کہ سعید بن ابی عروبہ نے نضر بن انس سے صرف یہی ایک حدیث سنی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْع أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
لَا أُحَدِّثُكَ إِلّا مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَنْ صوّر صُورَةً فَإِنَّ اللَّهَ مُعَذِّبُهُ حَتى ينْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا أَبَدًا
Reference: Sahih Al Bukhari 2225