امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابو عاصم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی از نافع از حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘ آپ نے بیان فرمایا:
تین شخص سفر کر رہے تھے کہ ان پر بارش ہونے لگی‘ وہ ایک پہاڑ کے غار میں داخل ہو گئے‘ ناگاہ پہاڑ کی ایک چٹان ٹوٹ کر اوپر سے گری جس نے غار کا منہ بند کر دیا تو انہوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ تم نے جو سب سے افضل عمل کیا ہو‘ اس کا وسیلہ پیش کر کے اللہ سے دعا کرو! ان میں سے ایک نے دعا کی: اے اللہ! بے شک میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے‘ میں بکریاں چرانے کے لیے گھر سے باہر جاتا تھا‘ پھر گھر آ کر ایک برتن میں دودھ دوہ کر اپنے ماں باپ کے پاس لاتا تو وہ اس دودھ کو پیتے‘ اس کے بعد میں اپنے بچوں کو‘ گھر والوں کو اور اپنی بیوی کو دودھ پلاتا‘ ایک رات میں کہیں پھنس گیا اور دیر سے لوٹا‘ جب میں گھر پہنچا تو ماں باپ سو چکے تھے‘ میں نے ان کو جگانا پسند نہیں کیا اور بچے میرے پیروں کے پاس بھوک سے چلا رہے تھے‘ پس میرا اور میرے ماں باپ کا معاملہ یونہی رہا حتیٰ کہ فجر طلوع ہو گئی‘ اے اللہ! اگر تجھے علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لیے کیا تھا‘ پس تو ہمارے لیے (غار کے منہ کو) اتنا کشادہ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں! سو ان کے لیے (غار کا منہ کچھ) کشادہ کر دیا گیا۔ اور دوسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! بے شک تجھے علم ہے کہ میں اپنے چچا کی بیٹیوں میں سے ایک عورت کے ساتھ اتنی زیادہ محبت کرتا تھا جتنی شدید محبت کوئی مرد کسی عورت سے کرتا ہے‘ اس عورت نے کہا: تم اس وقت تک مجھ سے اپنا مقصد پورا نہیں کر سکتے حتیٰ کہ مجھے ایک سو دینار لا کر دو‘ سو میں نے (ان دیناروں کے حصول میں) بہت محنت کی حتیٰ کہ ان کو جمع کر لیا‘ پس جب میں اس عورت کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اللہ سے ڈرو اور (بکارت کی) مہر کو اس کے حق دار کے سوا نہ توڑ‘ پس میں کھڑا ہو گیا اور اس عورت کو چھوڑ دیا‘ پس اگر تجھے علم ہے کہ میں نے یہ عمل محض تیری رضا جوئی کے لیے کیا تھا‘ سو تو ہمارے لیے (غار کا منہ) کشادہ کر دے‘ تو اس غار کا منہ دو تہائی کھل گیا‘ اور تیسرے شخص نے دعا کی: اے اللہ! بے شک تجھے علم ہے کہ میں نے تین صاع (بارہ کلوگرام) جوار کے عوض ایک مزدور سے کام کرایا‘ اس نے اس اجرت کو لینے سے انکار کر دیا‘ پھر میں نے اس جوار کو زمین میں بو دیا اور کاشت کاری کی‘ حتیٰ کہ میں نے اس سے گائیں اور چرواہا خریدا‘ پھر وہ مزدور آیا اور کہا: اے اللہ کے بندے! مجھے میرا حق دے‘ میں نے کہا: ان گایوں اور ان کے چرواہے کی طرف چلو‘ یہ سب تمہارے ہیں‘ اس نے کہا: کیا تم مذاق کر رہے ہو! میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا بلکہ یہ سب تمہارا مال ہے‘ اے اللہ! اگر تجھے علم ہے کہ میں نے یہ عمل محض تیری رضا کے لیے کیا تھا تو تو اس (غار کا منہ) ہمارے لیے کھول دے‘ چنانچہ ان کے لیے غار کا منہ کھول دیا گیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلم قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ فَأَصَابَهُمْ الْمَطَرُ فَدَخَلُوا فِي غَارٍ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ عَلَيْهِمْ صَخْرَةٌ قَالَ فَقَالَ بعضُهم لِبَعْضٍ ادْعُوا اللَّهَ بِأَفْضَلِ عَمَلٍ عَمِلْتُمُوهُ فَقَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِني كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَرْعَى ثُمَّ أَجِيءُ فَأَحْلُبُ فَأجِيءُ بالْحِلَابِ فَآتِي بِهِ أَبَوَيَّ فَيَشْرَبانِ ثُمَّ أَسْقِي الصِّبْيَةَ وَأَهْلِي وَامْرَأَتِي فَاحْتَبَسْتُ لَيْلَةً فَجِئْتُ فَإِذَا هُمَا نَائِمَانِ قَالَ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَالصِّبْيَة يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَلم يزَلْ ذَلِكَ دَأبِي وَدَأْبَهُمَا حَتَّى طَلَعَ الفَجْرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فعلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً نَرى مِنْهَا السَّمَاءَ قَالَ فَفُرِجَ عَنْهُمْ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنت أُحِبُّ امْرَأَةً مِنْ بَنات عَمِّي كَأَشَدِ مَا يُحِبُّ الرَّجُلُ النِّسَاء فَقَالَتْ لَا تَنَالُ ذَلِكَ مِنْهَا حَتَّى تُعْطِيَهَا مِائَةَ دِينَارٍ فَسَعَيْتُ فِيهَا حَتَّى جَمَعْتُهَا فَلَمَّا قَعَدْتُ بَيْنَ رِجْلَيْها قالَتْ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقمتُ وَتَرَكْتُهَا فَإِنْ كُنت تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلكَ ابْتِغَاءَ وَجْهكَ فَافْرُجْ عَنَّا فُرْجَةً قَالَ فَفَرَجَ عَنْهمْ الثُّلُثَيْنِ وَقَال الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي اسْتَأْجرْتُ أَجِيرًا بِفرَقٍ مِنْ ذُرَةٍ فَأَعْطيْتُهُ وَأَبَى ذَاكَ أَن يَأْخُذَ فَعَمَدْتُ إِلَى ذَلِكَ الْفَرَقِ فَزَرعْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بقرًا وَرَاعِيها ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَعْطِنِي حَقِّي فَقُلْتُ انْطَلِق إِلَى تِلْكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا فَإِنَّهَا لَكَ فَقَالَ أَتَسْتَهْزِئ بِي قَالَ فَقُلْ
Reference: Sahih Al Bukhari 2215