امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از حمید از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زھو سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا‘ کہا گیا کہ زھو کا کیا معنی ہے؟ تو آپ نے فرمایا: حتیٰ کہ وہ سرخ ہو جائیں‘ آپ نے فرمایا: یہ بتاؤ کہ اگر اللہ پھلوں کو پیدا ہونے سے روک لے تو تم اپنے بھائی کا مال کس چیز کے عوض لو گے؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ فَقِيلَ لَه وَمَا تُزْهِي قَالَ حَتَّى تَحْمَرَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 2198