امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن الہیثم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں معلی نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی از نبی صلی اللہ علیہ وسلم‘
آپ نے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا حتیٰ کہ ان کا پکنا ظاہر ہو جائے اور کھجور کے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا حتیٰ کہ وہ سرخ اور زرد ہو جائیں۔
کہا گیا کہ ”زھو“ کا کیا معنی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ پھل سرخ ہو جائیں یا زرد ہو جائیں۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ حَدّثنا أنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنهُ نَهى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صلَاحُهَا وَعَنْ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ قِيلَ وَمَا يَزْهو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ
Reference: Sahih Al Bukhari 2197