امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن المثنی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی از مجاہد از طاؤس از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، انہوں نے بیان کیا کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے، آپ نے فرمایا: ان دونوں کو ضرور عذاب دیا جا رہا ہے اور ان دونوں کو کسی بڑی چیز کے سبب سے عذاب نہیں دیا جا رہا، رہا ان دونوں میں سے ایک شخص تو وہ پیشاب کے قطروں سے نہیں بچتا تھا اور رہا دوسرا شخص تو وہ چغلی کھاتا تھا، پھر آپ نے ایک تر شاخ کو لے کر اس کے دو آدھے آدھے ٹکڑے کیے، پھر ہر قبر میں ایک ٹکڑے کو گاڑ دیا، صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ نے فرمایا: شاید جب تک یہ شاخیں خشک نہیں ہوں گی، ان کے عذاب میں تخفیف ہوتی رہے گی۔
ابن المثنی نے کہا: اور ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے مجاہد سے اس حدیث کی مثل سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ " إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ، وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لاَ يَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ، وَأَمَّا الآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ". ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً، فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، فَغَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً. قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا قَالَ " لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا ". قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى وَحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا مِثْلَهُ " يَسْتَتِرُ مِنْ بَوْلِهِ ".
Reference: Sahih Al Bukhari 218