امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا کہ عمرو بن دینار نے ان کو حدیث بیان کی از زہری از مالک بن اوس‘ انہوں نے پوچھا: آپ لوگوں میں سے بیع صرف کا (کرنسی کے لین دین یا سونے چاندی کے لین دین کا) کاروبار کون کرتا ہے؟ طلحہ نے کہا: میں یہ بیع کرتا ہوں‘ لیکن میں یہ بیع اس وقت کر سکوں گا جب ہمارا خازن مقامِ غابہ سے آ جائے گا۔
سفیان نے کہا: ہم نے زہری سے یہ حدیث اسی طرح سنی تھی‘ اس میں کوئی زیادتی نہیں تھی‘ پھر انہوں نے کہا کہ مجھے مالک بن اوس نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ خبر دیتے تھے از رسول اللہ صلى الله عليه وسلم‘ آپ نے فرمایا: سونے کی سونے کے عوض بیع سود ہے مگر جو نقد ہو اور گندم کی گندم کے عوض بیع سود ہے مگر جو نقد ہو اور کھجور کی کھجور کے عوض بیع سود ہے مگر جو نقد ہو اور جَو کی جَو کے عوض بیع سود ہے مگر جو نقد ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّه قالَ مَنْ عِنْدَهُ صَرْفٌ فَقَالَ طَلْحَةُ أَنَا حَتى يَجِيءَ خَازِنُنَا مِنْ الْغَابَةِ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ لَيسَ فِيهِ زِيَادَةٌ فَقَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخْبِرُ عَنْ رسُول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاء وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ
Reference: Sahih Al Bukhari 2134