Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 2097

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث بیان کی از وہب بن کیسان از حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما‘ انہوں نے بیان کیا کہ

میں ایک غزوہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا‘ میرا اونٹ تھک کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا‘ پس میرے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: جابر! میں نے عرض کیا: جی! آپ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا: میرا اونٹ بہت آہستہ چل رہا ہے اور تھک گیا ہے‘ لہٰذا میں پیچھے رہ گیا ہوں‘ آپ سواری سے اترے اور اس کو ایک ٹیڑھے منہ کی لکڑی سے مارا‘ پھر فرمایا: اب سوار ہو! پس میں سوار ہوا‘ اب میں نے دیکھا کہ (وہ اونٹ اس قدر تیز دوڑ رہا تھا کہ میں اس کو بہ مشکل) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا‘ آپ نے (اثناء سفر میں) پوچھا: تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے پوچھا: کنواری لڑکی سے شادی کی ہے یا بیوہ عورت سے؟ میں نے کہا: بلکہ بیوہ عورت سے شادی کی ہے‘ آپ نے پوچھا: کسی کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہ کی؟ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی‘ میں نے عرض کیا: میری کئی بہنیں ہیں تو میں نے چاہا کہ میں پختہ عورت سے شادی کروں جو ان کی نگرانی کرے اور ان کے کنگھی چوٹی کرے اور ان کی تربیت کرے‘ آپ نے فرمایا: اب تم گھر پہنچنے والے ہو‘ جب تم گھر پہنچ جاؤ تو ہوشیاری سے کام لینا‘ پھر آپ نے پوچھا: کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پس آپ نے وہ اونٹ ایک اوقیہ چاندی (چالیس درہم تقریبا ۳۶۰۰ روپے‘ دسمبر ۲۰۰۷ء میں) کے عوض مجھ سے وہ اونٹ خرید لیا‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں پہنچ گئے اور میں صبح کو پہنچا‘ پھر ہم مسجد میں آئے تو میں نے آپ کو مسجد کے دروازہ پر دیکھا‘ آپ نے فرمایا: تم اب آئے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھو‘ پس میں نے مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی‘ پھر آپ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے لیے ایک اوقیہ چاندی وزن کریں‘ سو حضرت بلال نے میرے لیے چاندی وزن کی اور زیادہ تول کر دی‘ پس میں چلا گیا حتیٰ کہ میں نے پیٹھ پھیرلی‘ پس آپ نے فرمایا: میرے لیے جابر کو بلاؤ‘ میں نے دل میں کہا: اب آپ مجھے اونٹ واپس کر دیں گے اور میرے نزدیک اس سے زیادہ اور کوئی چیز ناپسند نہیں تھی‘ آپ نے فرمایا: اپنا اونٹ لے جاؤ اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔ (”الکیس“ کا معنی ہے: بیٹا اور عقل سے کام لینے سے کنایہ ہے)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبيد اللَّهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا

قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلّمَ فِي غَزَاةٍ فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا فَأَتَى عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَليْه وَسَلَّمَ فَقَالَ جَابِرٌ فَقُلْتُ نَعَمْ قالَ مَا شَأْنُكَ قُلْتُ أَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي وأَعْيا فَتَخَلَّفْتُ فَنَزَلَ يَحْجُنُهُ بِمحجنِهِ ثُم قَال ارْكَبْ فَرَكِبْتُ فَلَقَدْ رَأيتُهُ أَكُفُّهُ عنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَزَوَّجْتَ قُلْتُ نعمْ قَالَ بِكْرا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ بَلْ ثَيِّبا قَالَ أَفَلَا جَارِيَةً تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ إِنّ لِي أَخَوَاتٍ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أتَزَوَّجَ امْرَأةً تَجْمعُهُنَّ وَتَمْشُطهن وَتَقُومُ عَلَيْهِن قَالَ أَمَّا إِنَّكَ قَادم فَإِذَا قَدِمْتَ فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ ثُمَّ قَال أَتَبِيعُ جَمَلَكَ قُلْتُ نَعَم فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ثُم قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي وَقَدِمْت بِالْغَدَاةِ فَجِئْنَا إِلى الْمَسْجِدِ فَوَجَدْتهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ قَالَ آلْآنَ قَدِمْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَدَعْ جَمَلَكَ فَادخُلْ فَصلِّ رَكْعَتَيْنِ فَدَخَلت فَصَلَّيْتُ فأمر بلَالًا أَنْ يَزِنَ لَهُ أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي بِلَالٌ فَأَرْجَحَ لِي فِي الْمِيزَانِ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى وَلَّيْتُ فَقَالَ ادْع لِي جَابِرًا قُلْتُ الْآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ وَلَمْ يَكُن شَيْءٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْهُ قالَ خُذْ جَمَلك وَلَكَ ثَمَنُهُ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 2097