امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی از ابی حازم‘ انہوں نے کہا: میں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
ایک عورت ایک بُردہ لے کر آئی‘ حضرت سہل نے کہا: کیا تمہیں علم ہے کہ بردہ کے کہتے ہیں؟ ان کو جواب دیا گیا: جی ہاں! بردہ اس چادر کو کہتے ہیں جس کے کناروں پر کڑھائی ہو‘ اس عورت نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے اس چادر کو اپنے ہاتھ سے بنا ہے تا کہ آپ کو پہناؤں‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو لے لیا اور آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی‘ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر کو بہ طور تہبند باندھے ہوئے ہمارے پاس آئے‘ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! یہ چادر مجھے پہنا دیجیئے‘ آپ نے فرمایا: ہاں! پھر آپ مجلس میں بیٹھ گئے‘ پھر آپ چلے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر اس شخص کے پاس بھیج دیا‘ لوگوں نے اس سے کہا: تم نے اچھا نہیں کیا‘ تم نے آپ سے یہ چادر مانگ لی حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ آپ کسی سائل کے سوال کو مسترد نہیں کرتے‘ اس شخص نے کہا: میں نے اس چادر کا صرف اس لیے سوال کیا تھا تاکہ جس دن میری موت ہو‘ اس دن وہ میرا کفن ہو جائے‘ حضرت سہل نے بتایا: پھر وہ چادر اس شخص کا کفن بن گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَن أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
جَاءَتْ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقِيلَ لَهُ نَعَمْ هِيَ الشَّمْلَةُ مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجًا إِلَيهَا فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ فَقَال رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْسُنِيهَا فَقَالَ نَعَمْ فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ ثُمّ رجعَ فَطَوَاهَا ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 2093