امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابو رجاء نے حدیث بیان کی از حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور وہ مجھے ارض مقدسہ (بیت المقدس) کی طرف لے گئے‘ پھر ہم چلتے رہے حتیٰ کہ ہم خون کے دریا پر آئے‘ اس میں ایک آدمی کھڑا ہوا تھا اور دریا کے وسط میں بھی ایک آدمی کھڑا ہوا تھا (جو آدمی کنارے پر تھا) اس کے سامنے پتھر تھے‘ پس جو آدمی دریا کے وسط میں تھا‘ وہ آگے بڑھا‘ پس جب اس نے دریا سے نکلنے کا ارادہ کیا (تو جو آدمی کنارے پر تھا) اس نے اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارا‘ پس اس کو اسی جگہ لوٹا دیا‘ پھر ہر بار جب بھی دریا سے نکلنے کا ارادہ کرتا تو وہ اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا اور اس کو اسی جگہ لوٹا دیتا جہاں وہ تھا‘ سو میں نے (ان سے) پوچھا: یہ کیا ہو رہا ہے؟ تو انہوں نے کہا: جس کو آپ نے (خون کے) دریا میں دیکھا‘ وہ سود خور تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا أَبو رَجَاءٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَين أتيانِي فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ مُقَدَّسَة فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ دَم فِيهِ رَجُلٌ قَائِمٌ وَعَلَى وَسَطِ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَأَقْبَلَ الرّجُل الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَخْرُجَ رَمَى الرَّجُلُ بِحَجَرٍ فِي فِيهِ فَرَدّهُ حَيْثُ كَانَ فَجَعَلَ كُلَّمَا جَاء لِيَخرُجَ رَمَى فِي فِيهِ بِحَجَرٍ فَيَرْجِعُ كَما كَانَ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَ الَّذِي رَأَيْتَهُ فِي النَّهَرِ آكِلُ الرِّبَا
Reference: Sahih Al Bukhari 2085