امام بخاری روایت کرتے ہیں: مجھے محمد بن المثنی نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابن عدی نے حدیث بیان کی از ابن عون از شعبی‘ انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (ح) اور ہم کو علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابن عیینہ نے حدیث بیان کی از ابی فروہ از الشعبی‘ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ح) اور مجھے عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں ابن عیینہ نے حدیث بیان کی از ابی فروہ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے سنا‘ انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا از نبی صلی اللہ علیہ وسلم (ح) اور ہمیں محمد بن کثیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از ابی فروہ از شعبی از حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حلال (بھی) ظاہر ہے اور حرام (بھی) ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں‘ پس جس نے اس چیز کو ترک کر دیا جس میں گناہ کا شبہہ ہو تو جس میں گناہ ظاہر ہو وہ اس کو زیادہ ترک کرنے والا ہوگا اور جس نے اس چیز پر جرأت کی‘ جس میں گناہ کا شک ہو تو عنقریب وہ اس چیز میں واقع ہو جائے گا جس میں گناہ ظاہر ہو اور تمام ممنوعہ کام اللہ تعالیٰ کی خاص چراگاہ ہیں اور جو (جانور) بھی چراگاہ کے گرد چرے گا تو اس کا اس چراگاہ میں چلے جانے کا خطرہ ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبُو فَرْوَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَمَنْ تَرَكَ مَا شُبِّهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ كَانَ لِمَا اسْتَبَانَ أَتْرَكَ، وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا يَشُكُّ فِيهِ مِنَ الْإِثْمِ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَالْمَعَاصِي حِمَى اللَّهِ، مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ
Reference: Sahih Al Bukhari 2051