امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن حمزہ نے حدیث بیان کی' انہوں نے کہا: مجھے دراوردی نے حدیث بیان کی از یزید از محمد بن ابراہیم از ابی سلمہ از حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ' وہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے مہینہ کے درمیانی عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھتے تھے' بیس راتوں کے گزرنے کے بعد جب اکیسویں رات آتی تو آپ شام کو گھر لوٹ جاتے' اور صحابہ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے تھے وہ بھی اپنے گھروں کو لوٹ جاتے تھے اور رمضان کے ایک مہینہ میں جب آپ اعتکاف میں تھے تو جس رات میں آپ کو گھر جانے کی عادت تھی' اس میں آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا' پھر اللہ تعالیٰ نے جو چاہا آپ نے ان کو حکم دیا' پھر آپ نے فرمایا: میں اس (درمیانی) عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا' پھر اب مجھ کو یہ معلوم ہوا ہے کہ مجھے اس مہینہ کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا چاہیے' لہٰذا جو لوگ میرے ساتھ اعتکاف میں بیٹھے تھے' وہ اپنی اعتکاف گاہ میں رہیں اور اس رات مجھے شب قدر دکھائی گئی تھی' پھر بھلا دی گئی' سو اب تم اس کو آخری عشرہ کی راتوں میں تلاش کرو اور اس کو ہر طاق رات میں تلاش کرو اور میں نے خواب میں دیکھا کہ میں پانی اور مٹی میں سجدہ کر رہا ہوں اور حضرت ابوسعید نے کہا: اس رات آسمان پر ابر چھا گیا' پھر بارش ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی جگہ پر چھت ٹپکنے لگی' یہ اکیسویں رات کا واقعہ ہے' میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد واپس جا رہے تھے اور آپ کے مبارک چہرے پر کیچڑ اور پانی لگا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ وَالدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ يُجَاوِرُ فِي رَمَضَانَ الْعَشْرَ الَّتِي فِي وَسَطِ الشَّهْرِ فَإِذَا كَانَ حِينَ يُمْسِي مِنْ عِشْرِينَ لَيْلَةً تَمْضِي وَيَسْتَقْبِلُ إِحْدَى وعِشرِينَ رَجَعَ إِلَى مَسْكَنِهِ وَرَجَعَ مَنْ كانَ يُجَاوِرُ مَعَهُ وَأَنَّهُ أَقَامَ فِي شَهْرٍ جَاورَ فِيهِ اللَّيْلَةَ الَّتِي كَانَ يَرْجِعُ فِيهَا فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَمَرَهُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ كُنْتُ أُجَاوِرُ هَذِهِ الْعَشر ثُمَّ قَدْ بَدَا لِي أَنْ أُجَاوِرَ هَذِهِ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ فَمَنْ كَانَ اعْتَكَفَ مَعِي فَلْيَثْبتْ فِي مُعْتَكَفِهِ وَقَدْ أُرِيتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا فَابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ وَابْتَغُوهَا فِي كُلِّ وِتْرٍ وَقَدْ رَأَيْتُنِي أَسْجُدُ فِي مَاءٍ وَطِينٍ فَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَأمْطَرَتْ فَوَكَفَ الْمَسْجِدُ فِي مُصَلَّى النَّبيِّ صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَة إحْدَى وَعِشْرينَ فَبَصُرَتْ عَيْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَظَرْت إلَيْهِ انْصرَف مِنْ الصُّبْحِ وَوَجْهُهُ مُمْتلئٌ طِينًا وَمَاءً
Reference: Sahih Al Bukhari 2018