امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از امام مالک از ہشام بن عروہ از والد خود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، وہ بیان کرتی ہیں کہ
قریش زمانہ جاہلیت میں عاشوراء کے دن روزے رکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے، پھر جب آپ مدینہ میں آئے تو آپ نے خود بھی اس دن روزہ رکھا اور اس دن روزہ رکھنے کا حکم بھی دیا، پھر جب رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے تو عاشوراء کا روزہ ترک کر دیا گیا، پس جو چاہتا اس دن روزہ رکھتا اور جو چاہتا اس کو ترک کر دیتا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ تَرَكَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ
Reference: Sahih Al Bukhari 2002