امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابن مقاتل نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: ہمیں اوزاعی نے خبر دی‘ انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عبداللہ! کیا مجھے یہ خبر نہیں دی گئی ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: پس تم ایسا نہ کرو‘ تم روزہ رکھو بھی اور روزہ چھوڑو بھی‘ اور (رات کو نوافل میں) قیام بھی کرو اور نیند بھی کرو‘ کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہر مہینہ میں تین دن کے روزے رکھو کیونکہ تمہیں ہر نیکی کا دس گنا اجر ملے گا اور یہ پوری زندگی کے روزے ہیں یعنی ہمیشہ ہمیشہ کے روزے ہیں‘ سو میں نے (اپنے اوپر) سختی کی تو مجھ پر سختی کی گئی‘ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس کی قوت پاتا ہوں‘ آپ نے فرمایا: پھر تم اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے رکھو اور ان پر اضافہ نہ کرنا‘ میں نے پوچھا: اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام کے روزے کیسے ہیں؟ آپ نے فرمایا: وہ نصف زندگی کے روزے ہیں (ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن روزہ چھوڑنا)۔ پھر حضرت عبداللہ بوڑھے ہونے کے بعد یہ کہتے تھے: کاش! میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی رخصت کو قبول کرلیتا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ ". فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ " فَلاَ تَفْعَلْ، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَقُمْ وَنَمْ، فَإِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْجِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ لِزَوْرِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَإِنَّ بِحَسْبِكَ أَنْ تَصُومَ كُلَّ شَهْرٍ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ، فَإِنَّ لَكَ بِكُلِّ حَسَنَةٍ عَشْرَ أَمْثَالِهَا، فَإِنَّ ذَلِكَ صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ ". فَشَدَّدْتُ، فَشُدِّدَ عَلَىَّ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً. قَالَ " فَصُمْ صِيَامَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَلاَ تَزِدْ عَلَيْهِ ". قُلْتُ وَمَا كَانَ صِيَامُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ " نِصْفَ الدَّهْرِ ". فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ بَعْدَ مَا كَبِرَ يَا لَيْتَنِي قَبِلْتُ رُخْصَةَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Reference: Sahih Al Bukhari 1975