امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن عبداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از ابی اسحاق شیبانی کہ انہوں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، آپ نے ایک شخص سے فرمایا: (سواری سے) اترو اور میرے لیے ستو گھولو، اس نے کہا: یارسول اللہ! (ابھی) سورج (ہے)، آپ نے فرمایا: اترو اور میرے لیے ستو گھولو، اس نے کہا: یارسول اللہ! (ابھی) سورج (ہے)، آپ نے فرمایا: اترو اور میرے لیے ستو گھولو، پس اس نے اتر کر ستو گھولے، آپ نے ستو پیئے، پھر اس طرف ہاتھ مار کر فرمایا: جب تم رات کو اس طرف سے آتے ہوئے دیکھو تو روزہ دار کے روزہ کے افطار کا وقت ہو گیا۔
سفیان کی جریر نے اور ابوبکر بن عیاش نے متابعت کی ہے، از الشیبانی از حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَقَالَ لِرَجُلٍ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الشَّمْسُ. قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الشَّمْسُ. قَالَ " انْزِلْ فَاجْدَحْ لِي ". فَنَزَلَ، فَجَدَحَ لَهُ، فَشَرِبَ، ثُمَّ رَمَى بِيَدِهِ هَا هُنَا، ثُمَّ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ اللَّيْلَ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ ". تَابَعَهُ جَرِيرٌ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1941