امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن یحییٰ نے حدیث بیان کی از والد خود‘ انہوں نے کہا:
میں عمرو بن ابی حسن کے پاس تھا‘ انہوں نے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نبی ﷺ کے وضوء کے متعلق سوال کیا‘ انہوں نے پانی کا تسلا (بڑا برتن) منگوایا‘ پھر ان کے سامنے وضوء کیا پھر اس تسلے کو اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا‘ پھر دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا‘ پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا‘ پھر تین چلو پانی لے کر تین بار کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا‘ پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا‘ پس اپنے چہرے کو تین بار دھویا‘ پھر اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈالا‘ پس اپنے دونوں ہاتھوں کو دو بار کہنیوں تک دھویا‘ پھر اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا‘ پس اپنے سر کا مسح کیا‘ پس اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے سے پیچھے لے گئے‘ پھر پیچھے سے آگے لائے‘ پھر اپنے ہاتھ کو برتن میں ڈالا‘ پس اپنے دونوں پیروں کو دھویا۔
اور ہم کو موسیٰ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہم کو وہیب نے حدیث بیان کی‘ وہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے ایک بار سر کا مسح کیا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: شَهِدْتُ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ، سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ عَنْ وُضُوءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَدَعَا بِتَوْرٍ [ص:50] مِنْ مَاءٍ فَتَوَضَّأَ لَهُمْ، فَكَفَأَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاَثًا، بِثَلاَثِ غَرَفَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاَثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ إِلَى المِرْفَقَيْنِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِيَدَيْهِ وَأَدْبَرَ بِهِمَا، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ» وحَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ قَالَ: مَسَحَ رَأْسَهُ مَرَّةً
Reference: Sahih Al Bukhari 192