Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 1927

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: از شعبہ از الحکم از ابراہیم از الاسود از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وہ بیان کرتی ہیں کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بوسہ دیتے اور ان سے بغل گیر ہوتے اور آپ روزے سے ہوتے اور آپ اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ ضبط کرنے والے تھے۔

امام بخاری نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”مارب“ کا معنی حاجت ہے‘ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: اس میں میرے اور بھی کئی فوائد ہیں۔ (طہٰ: ۱۸) اور طاؤس نے کہا: ”اولی الاربۃ“ کا معنی ہے: احمق (نامرد) جس کو عورتوں کی ضرورت نہ ہو۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: یا ان نوکروں پر جن کو عورتوں کی خواہش نہ ہو۔ (النور: ۳۱)

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ، وَهُوَ صَائِمٌ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لإِرْبِهِ‏.‏ وَقَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ‏{‏مَآرِبُ‏}‏ حَاجَةٌ‏.‏ قَالَ طَاوُسٌ ‏{‏أُولِي الإِرْبَةِ‏}‏ الأَحْمَقُ لاَ حَاجَةَ لَهُ فِي النِّسَاءِ‏.‏

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1927