ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری‘ انہوں نے کہا: مجھے ابوبکر بن عبدالرحمان بن الحارث بن ہشام نے خبر دی کہ ان کے والد عبدالرحمٰن نے مروان کو خبر دی کہ حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے اس کو خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کا وقت اس حال میں پاتے کہ آپ اپنے اہل سے جنبی ہوتے تھے‘ پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے‘ اور مروان نے عبدالرحمان بن الحارث سے کہا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بلند آواز سے سنا دو‘ اور مروان اس وقت مدینہ کے حاکم تھے‘ پس ابوبکر نے کہا: عبدالرحمان نے اس بات کو پسند نہیں کیا‘ پھر اتفاق سے ہم لوگ ذوالحلیفہ میں جمع ہوئے‘ وہاں حضرت ابو ہریرہ کی زمین تھی‘ پس عبدالرحمان نے حضرت ابو ہریرہ سے کہا: میں تم سے ایک بات ذکر کرنے والا ہوں اور اگر مروان نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں تم سے اس کا ذکر نہ کرتا‘ پھر انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی حدیث کا ذکر کیا‘ حضرت ابو ہریرہ نے کہا: (بات یہ ہے کہ) حضرت فضل بن عباس نے مجھ سے اسی طرح حدیث بیان کی تھی اور وہ زیادہ جاننے والے ہیں‘
اور ہمام نے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیٹے نے از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ ایسی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑنے کا حکم دیتے تھے مگر حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ کی حدیث زیادہ مستند ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ كُنْتُ أَنَا وَأَبِي، حِينَ دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ ح. حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ أَبَاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَ مَرْوَانَ، أَنَّ عَائِشَةَ، وَأُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيَصُومُ. وَقَالَ مَرْوَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ أُقْسِمُ بِاللَّهِ لَتُقَرِّعَنَّ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ. وَمَرْوَانُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الْمَدِينَةِ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ فَكَرِهَ ذَلِكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثُمَّ قُدِّرَ لَنَا أَنْ نَجْتَمِعَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، وَكَانَتْ لأَبِي هُرَيْرَةَ هُنَالِكَ أَرْضٌ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لأَبِي هُرَيْرَةَ إِنِّي ذَاكِرٌ لَكَ أَمْرًا، وَلَوْلاَ مَرْوَانُ أَقْسَمَ عَلَىَّ فِيهِ لَمْ أَذْكُرْهُ لَكَ. فَذَكَرَ قَوْلَ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ. فَقَالَ كَذَلِكَ حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُنَّ أَعْلَمُ، وَقَالَ هَمَّامٌ وَابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَأْمُرُ بِالْفِطْرِ. وَالأَوَّلُ أَسْنَدُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1926