امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن موسیٰ نے حدیث بیان کی‘ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ہشام بن یوسف نے خبر دی از ابن جریج‘ انہوں نے کہا: مجھے عطاء نے خبر دی از ابی صالح الزیات‘ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
روزہ کے سوا ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہوتا ہے‘ پس بے شک روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا‘ اور روزہ ڈھال ہے‘ جب تم میں سے کوئی شخص کسی دن روزہ سے ہو تو وہ فحش بات کرے نہ شور کرے‘ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑے تو اس کو یہ کہنا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں‘ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو ضرور اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہوں گی جن سے وہ خوش ہوگا‘ ایک خوشی اس وقت ہو گی جب وہ روزہ افطار کرے گا اور دوسری خوشی اس وقت ہو گی جب وہ اپنے روزے کی وجہ سے اپنے رب سے ملاقات کرے گا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الزَّيَّاتِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضي اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ، إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أوْ قَاتَلَهُ، فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَم الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ المِسْكِ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بصَوْمهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1904