امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی از مالک از ابی الزناد از الاعرج از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
روزہ ڈھال ہے، پس کوئی شخص (روزے میں) فحش بات کرے نہ جہالت کی بات کرے، اگر کوئی شخص اس سے جنگ کرے یا اس کو گالی دے تو اس کو دو مرتبہ کہنا چاہیے کہ میں روزہ دار ہوں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو ضرور اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے، وہ اپنے کھانے اور اپنے پینے کو اور اپنے نفس کے تقاضوں کو میری وجہ سے ترک کرتا ہے، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا اور نیکی کا اجر دس گنا ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَلاَ يَرْفُثْ وَلاَ يَجْهَلْ، وَإِنِ امْرُؤٌ قَاتَلَهُ أَوْ شَاتَمَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالذي نَفْسِي بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ رِيحِ المِسْكِ يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَشَهْوَتَهُ مِن أَجلي الصِّيَامُ لِي، وَأَنَا أَجْزِي بِهِ وَالحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا
Reference: Sahih Al Bukhari 1894