امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں اللیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب‘ انہوں نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث سنائی‘ اس میں آپ نے ہم سے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں میں آنا تو دجال پر حرام کر دیا گیا ہے‘ وہ مدینہ کی ایک شور والی (کھاری) زمین پر اترے گا‘ اس دن مدینہ سے ایک شخص اس کی طرف نکلے گا‘ جو سب لوگوں سے افضل ہوگا یا افضل لوگوں میں سے ہوگا‘ وہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہ دجال ہے جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی ہے‘ پس دجال کہے گا: یہ بتاؤ کہ اگر میں تم کو ابھی قتل کردوں‘ پھر فوراً زندہ کردوں تو کیا تم میرے معاملہ میں شک کرو گے؟ تو وہ لوگ کہیں گے کہ نہیں! پس وہ اس کو قتل کردے گا‘ پھر اس کو زندہ کر دے گا‘ پس جس وقت وہ اس کو زندہ کرے گا تو وہ شخص کہے گا: مجھے آج سے پہلے تیرے (دجال ہونے کے متعلق) اتنی بصیرت نہیں تھی‘ پھر دجال کہے گا: میں اس کو قتل کرتا ہوں لیکن وہ اس پر مسلط نہیں ہوسکے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا بِهِ أَنْ قَالَ يَأْتِي الدَّجَّالُ، وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ المَدِينَة، بَعْضَ السِّبَاخِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النّاسِ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ، فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ، الَّذِي حَدَّثَنَا عَنْكَ رسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلتُ هَذَا، ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ هَلْ تَشُكُّونَ فِي الأَمْرِ؟ فَيَقُولُونَ لاَ، فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ، فَيَقُولُ حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي اليَوْمَ، فيَقُولُ الدَّجَّالُ أَقْتُلُهُ فَلاَ أُسَلَّطُ علَيْهِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1882