امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی از عمرو بن دینار از سعید بن جبیر از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما‘ وہ بیان کرتے ہیں کہ
جس وقت ایک آدمی میدانِ عرفات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کر رہا تھا تو اچانک اس کی اونٹنی نے اس کو گرا دیا‘ پس اس کی گردن ٹوٹ گئی‘ یا کہا: اونٹنی نے اس کی گردن توڑ دی‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن پہناؤ یا فرمایا: اس کے دو کپڑوں میں‘ اور اس کو خوشبو نہ لگانا اور اس کا سر نہ ڈھانپنا کیونکہ قیامت کے دن اللہ اس کو اس حال میں اٹھائے گا کہ یہ ”اللّٰھم لبیک اللّٰھم لبیک“ پڑھ رہا ہوگا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ وَاقِفٌ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، فَوَقَصَتْهُ ـ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ ـ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ ـ أَوْ قَالَ ثَوْبَيْهِ ـ وَلاَ تُحَنِّطُوهُ، وَلاَ تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي ".
Reference: Sahih Al Bukhari 1849