Sub-Chapter (Baab)

Sahih Al Bukhari 1832

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از سعید بن ابی سعید المقبری از حضرت ابی شریح العدوی رضی اللہ عنہ

انہوں نے عمرو بن سعید سے اس وقت کہا جب وہ مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا: اے امیر! مجھے اجازت دیں تو میں آپ کو ایک قول سناؤں جس کو رسول اللہ ﷺ نے کل فتح مکہ کے دن فرمایا تھا‘ اس کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے یاد رکھا اور میری دونوں آنکھوں نے دیکھا جب آپ نے اس کا ارشاد فرمایا تھا‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی‘ پھر فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنایا ہے اور اس کو لوگوں نے حرم نہیں بنایا‘ پس کسی ایسے شخص کے لیے جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو‘ یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے یا مکہ کے درختوں کو کاٹے‘ پس اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے قتال کرنے کی وجہ سے مکہ میں قتال کرنے کی اجازت پر استدلال کرے تو اس سے کہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو اجازت دی تھی اور تمہارے لیے اجازت نہیں دی اور مجھے بھی دن کی ایک ساعت کے لیے (قتال کی) اجازت دی تھی اور آج اس کی حرمت کل کی حرمت کی طرح لوٹ آئی ہے اور حاضر کو چاہیے کہ وہ یہ حدیث غائب کو پہنچا دے‘ پھر حضرت ابو شریح سے پوچھا گیا کہ آپ کو پھر عمرو نے کیا جواب دیا؟ انہوں نے بتایا کہ اس نے کہا: اے ابا شریح! میں اس مسئلہ کو تم سے زیادہ جانتا ہوں! بے شک حرم کسی نافرمانی کرنے والے کو پناہ نہیں دیتا اور نہ اس کو پناہ دیتا ہے جو کسی کا خون کر کے بھاگا ہو اور نہ اس کو جو چوری کر کے بھاگا ہو۔

”خربۃ“ کا معنی آزمائش ہے۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلاً قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْغَدِ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ، فَسَمِعَتْهُ أُذُنَاىَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَاىَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، إِنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا وَلاَ يَعْضُدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ لِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُولُوا لَهُ إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ لأَبِي شُرَيْحٍ مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو قَالَ أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْحٍ، إِنَّ الْحَرَمَ لاَ يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلاَ فَارًّا بِدَمٍ، وَلاَ فَارًّا بِخَرْبَةٍ‏.‏ خَرْبَةٌ بَلِيَّةٌ‏.‏

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1832