امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں معاذ بن فضالہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از یحییٰ از عبداللہ بن ابی قتادہ، انہوں نے بیان کیا کہ
میرے والد حدیبیہ کے سال گئے تھے، ان کے اصحاب نے احرام باندھا ہوا تھا اور انہوں نے احرام نہیں باندھا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتایا گیا تھا کہ ایک دشمن آپ سے جنگ کرے گا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، پھر جس وقت میں آپ کے اصحاب کے ساتھ تھا تو وہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہنسنے لگے، پس میں نے دیکھا تو میرے سامنے جنگلی گدھا تھا، میں نے اس پر حملہ کیا اور اس کو نیزہ مارا، میں نے اپنے ساتھیوں سے مدد طلب کی تو انہوں نے میری مدد کرنے سے انکار کر دیا، پھر ہم نے اس کا گوشت کھایا اور ہمیں یہ خوف ہوا کہ کہیں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہ ہو جائیں، پس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے نکلا، کبھی میں گھوڑے کو تیز دوڑاتا اور کبھی آہستہ چلاتا، پھر مجھے آدھی رات کو بنوغفار کا ایک شخص ملا، میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہاں چھوڑا ہے؟ اس نے کہا: میں نے آپ کو تعہن پر چھوڑا ہے اور آپ کا ارادہ تھا کہ آپ السقیا میں دوپہر کو آرام کریں گے، میں نے (وہاں پہنچ کر) کہا: یارسول اللہ! آپ کے اہل کہتے ہیں: ”السلام عليك ورحمة اللہ“ اور ان کو یہ خطرہ ہے کہ کہیں وہ آپ سے بچھڑ نہ جائیں، آپ ان کا انتظار کریں، میں نے بتایا: یارسول اللہ! میں نے ایک وحشی گدھے کا شکار کیا ہے اور میرے پاس اس کا بچا ہوا گوشت ہے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: کھاؤ، اور وہ سب محرم تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ انْطَلَقَ أَبِي عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ، وَلَمْ يُحْرِمْ، وَحُدِّثَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَدُوًّا يَغْزُوهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِهِ يَضْحَكُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ، فَطَعَنْتُهُ، فَأَثْبَتُّهُ، وَاسْتَعَنْتُ بِهِمْ، فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ، وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَطَلَبْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا، وَأَسِيرُ شَأْوًا، فَلَقِيتُ رَجُلاً مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ تَرَكْتُهُ بِتَعْهِنَ، وَهُوَ قَائِلٌ السُّقْيَا. فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَهْلَكَ يَقْرَءُونَ عَلَيْكَ السَّلاَمَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ قَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ، فَانْتَظِرْهُمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ، وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ. فَقَالَ لِلْقَوْمِ " كُلُوا " وَهُمْ مُحْرِمُونَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1821