امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسماء نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں جویریہ نے حدیث بیان کی از نافع کہ عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ‘ ان دونوں نے خبر دی کہ
جس زمانہ میں حجاج کا لشکر حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما پر حملہ آور ہوا‘ ان دونوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ پر کوئی حرج نہیں ہے اگر آپ اس سال حج نہ کریں کیونکہ ہمیں خطرہ ہے کہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان لشکر حائل ہو جائے گا‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے تو کفار قریش بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے‘ پس رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہدی (قربانی کے اونٹ) کو نحر کیا اور اپنا سر منڈوا لیا اور میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے عمرہ کو واجب کر لیا ہے‘ ان شاء اللہ میں جاؤں گا‘ پس اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان تخلیہ کیا گیا تو میں طواف کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان لشکر حائل ہوا تو میں اس طرح کروں گا جس طرح نبی ﷺ نے کیا تھا اور میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا‘ پھر حضرت عبداللہ بن عمر نے ذوالحلیفہ سے عمرہ کا احرام باندھا‘ پھر تھوڑی دور گئے‘ پھر کہا: حج اور عمرہ کا ایک ہی عمل ہے‘ میں تمہیں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے حج کے ساتھ اپنے عمرہ کو واجب کر لیا ہے‘ پھر انہوں نے ان دونوں کا احرام نہیں کھولا حتیٰ کہ انہوں نے یوم النحر کو ہدی نحر کر کے احرام کھول دیا اور وہ کہتے تھے کہ وہ اس وقت تک احرام نہیں کھولیں گے حتیٰ کہ جس دن وہ مکہ میں داخل ہوں تو ایک طواف (زیارت) کریں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِية، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رضي اللَّهُ عَنْهُمَا، لَيَالِيَ نَزَلَ الْجَيْشُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ
فَقَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ، فَنَحَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ، وَأُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْعُمْرَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، أَنْطَلِقُ، فَإِنْ خُلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْبَيْتِ طُفْتُ، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ، فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا شَأْنُهُمَا وَاحِدٌ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَلَمْ يَحْلِلْ مِنْهُمَا حَتَّى حَلَّ يَوْمَ النَّحْرِ، وَأَهْدَى، وَكَانَ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ حَتَّى يَطُوفَ طَوَافًا وَاحِدًا يَوْمَ يَدْخُلُ مَكَّةَ
Reference: Sahih Al Bukhari 1807