امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از ابن شہاب از عیسیٰ بن طلحہ از عبداللہ بن عمرو
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع میں (سواری پر) کھڑے ہوئے تھے کہ لوگ آپ سے سوال کرنے لگے‘ ایک شخص نے کہا: مجھے پتا نہیں چلا تو میں نے ذبح سے پہلے سر مونڈ لیا‘ آپ نے فرمایا: اب ذبح کر لو کوئی حرج نہیں ہے‘ دوسرے شخص نے کہا: مجھے پتا نہیں چلا تو میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے نحر کر لیا‘ آپ نے فرمایا: اب کنکریاں مار لو‘ کوئی حرج نہیں ہے‘ پس اس دن آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا گیا جس کو مقدم یا مؤخر کر لیا گیا تھا تو آپ نے یہی فرمایا: اب کر لو کوئی حرج نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ فَقَالَ رَجُلٌ لَمْ أَشْعُرْ فَحَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ قَالَ اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ فَجَاءَ آخَرُ فَقَالَ لَمْ أَشْعُرْ فَنَحَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ ارْمِ وَلَا حَرَجَ فَمَا سُئِلَ يَوْمَئِذٍ عَنْ شَيْءٍ قُدِّمَ وَلَا أُخِّرَ إِلَّا قَالَ افْعَلْ وَلَا حَرَجَ
Reference: Sahih Al Bukhari 1736