امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ بن الحجاج نے حدیث بیان کی از ابی اسحاق، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ
میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا، انہوں نے المزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھی، پھر ٹھہرے رہے، پس کہا کہ مشرکین المزدلفہ سے اس وقت لوٹتے تھے جب سورج طلوع ہو جاتا تھا اور وہ کہتے تھے: اے پہاڑ ثبیر! روشن ہو جا اور بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور آپ طلوع آفتاب سے پہلے المزدلفہ سے لوٹے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يَقُولُ شَهِدْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَلَّى بِجَمْعٍ الصُّبْحَ ثُمَّ وَقَفَ فَقَالَ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَيَقُولُونَ أَشْرِقْ ثَبِيرُ وَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ ثُمَّ أَفَاضَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ
Reference: Sahih Al Bukhari 1684