امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سوید نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن ابی عمرو نے حدیث بیان کی جو المطلب کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی جو الکوفی کی والیہ کے آزاد کردہ غلام ہیں، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی، انہوں نے بیان کیا
کہ وہ عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات سے واپس آ رہے تھے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے بہت ڈانٹ ڈپٹ کی آواز سنی اور اونٹوں کو مارنے کی آواز سنی تو آپ نے ان کی طرف چابک سے اشارہ کر کے فرمایا: اے لوگو! تم پر سکون اور وقار لازم ہے کیونکہ نیکی سواری کو تیز دوڑانے میں نہیں ہے۔ (التوبہ: ۴۷ میں ہے:)
”اوضعوا“، یعنی وہ بہت تیزی سے تمہارے درمیان افواہیں پھیلاتے ہیں۔ (اور الکھف: ۳۳ میں ہے:) ”وفجرنا خلالہما“ اور ہم نے ان کے درمیان دریا جاری کر دیئے تھے۔ یعنی ”اوضعوا“ کا معنی ہے: وہ جلدی کرتے تھے اور ”خلال“ کا معنی درمیان ہے۔ اس حدیث کی روایت میں امام بخاری منفرد ہیں۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى وَالِبَةَ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَفَعَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ زَجْرًا شَدِيدًا وَضَرْبًا وَصَوْتًا لِلْإِبِلِ فَأَشَارَ بِسَوْطِهِ إِلَيْهِمْ وَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِالْإِيضَاعِ أَوْضَعُوا أَسْرَعُوا خِلَالَكُمْ مِنْ التَّخَلُّلِ بَيْنَكُمْ وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا بَيْنَهُمَا
Reference: Sahih Al Bukhari 1671