امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن محمد نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں عاصم نے خبر دی‘ انہوں نے بیان کیا:
میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ الصفاء اور المروۃ کے درمیان سعی کو مکروہ قرار دیتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! کیونکہ یہ زمانہ جاہلیت کا شعار تھا‘ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور المروۃ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں‘ سو جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا‘ اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ (البقرہ:۱۵۸)۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَكُنْتُمْ تَكْرَهُونَ السَّعْيَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ نَعَمْ لِأَنَّهَا كَانَتْ مِنْ شَعَائِرِ الْجَاهِلِيَّةِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا
Reference: Sahih Al Bukhari 1648