امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری‘ انہوں نے بیان کیا کہ عروہ نے کہا کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو میں نے ان سے کہا: مجھے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے متعلق بتائیے: بے شک صفا اور المروۃ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں‘ سو جس نے بیت اللہ کا حج کیا یا عمرہ کیا‘ اس پر ان دونوں کا طواف (سعی) کرنے میں کوئی گناہ نہیں۔ (البقرہ:۱۵۸) پس اللہ کی قسم! اگر کوئی شخص صفا اور المروۃ میں سعی نہ کرے تو اس کو کوئی گناہ نہیں ہوگا! حضرت عائشہ نے فرمایا:
اے میرے بھتیجے! تم نے کیسی غلط بات کہی ہے‘ اگر یہ آیت تمہاری تاویل کے مطابق ہوتی تو اللہ تعالیٰ یوں فرماتا: جو شخص صفا اور المروۃ میں سعی نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے‘ لیکن یہ آیت انصار کے متعلق نازل ہوئی ہے‘ وہ اسلام لانے سے پہلے منات طاغیہ (بت) کے لیے احرام باندھتے تھے‘ جس کی وہ مشلل (ایک ٹیلہ) کے پاس پرستش کرتے تھے‘ پس جو انصار حج کرتے وہ صفا اور المروۃ میں سعی کرنے کو اس وجہ سے بُرا جانتے تھے‘ لہٰذا جب وہ اسلام لے آئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا‘ پس انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم صفا اور المروۃ میں سعی کرنے سے تنگ ہوتے ہیں‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور المروۃ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں‘ (البقرہ:۱۵۸) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تحقیق یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور المروۃ میں سعی کرنے کو سنت قرار دیا ہے‘ پس کسی شخص کے لیے ان میں سعی کرنے کو ترک کرنا جائز نہیں ہے‘ زہری نے کہا: پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ابوبکر بن عبدالرحمن کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے کہا: بے شک یہ علم کی بات ہے جس کو میں نے اس سے پہلے نہیں سنا‘ اور میں نے کئی اہل علم لوگوں سے سنا‘ وہ یہ کہتے تھے: عرب کے ان لوگوں کے سوا جن کا حضرت عائشہ نے ذکر کیا ہے کہ وہ منات بت کے لیے احرام باندھتے تھے‘ سوا ان کے سوا تمام عرب صفا اور المروۃ میں طواف کرتے تھے‘ پس جب اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا ذکر کیا (کہ اللہ کے قدیم گھر کا طواف کرو۔ الحج:۲۹) اور اللہ نے قرآن میں صفا اور المروۃ میں طواف کا ذکر نہیں کیا تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم صفا اور المروۃ میں طواف کرتے تھے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ میں طواف کا ذکر فرمایا ہے‘ اور صفا اور المروۃ میں طواف کا ذکر نہیں فرمایا تو کیا صفا اور المروۃ میں طواف کرنے سے ہم کو کوئی گناہ ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بے شک صفا اور المروۃ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (البقرہ:۱۵۸) ابوبکر نے کہا: پس میں یہ سنتا تھا کہ یہ آیت دونوں فریقوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ان کے متعلق بھی جو زمانہ جاہلیت میں صفا اور المروۃ کے درمیان طواف کرنے کی وجہ سے صفا اور المروۃ میں طواف کرنے کو بُرا جانتے تھے اور ان کے متعلق بھی جو اسلام میں صفا اور المروۃ کے درمیان طواف کرنے کو اس لیے برا جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ میں طواف کرنے کا حکم دیا ہے اور صفا کا ذکر نہیں کیا حتیٰ کہ بیت اللہ میں طواف کا ذکر کرنے کے بعد صفا میں طواف کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا فَوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَتْ بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنَّ هَذِهِ لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَتَطَوَّفَ بِهِمَا وَلَكِنَّهَا أُنْزِلَتْ فِي الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَهَا عِنْدَ الْمُشَلَّلِ فَكَانَ مَنْ أَهَلَّ يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطُوفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا أَسْلَمُوا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الْآيَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ أَخْبَرْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ إِنَّ هَذَا لَعِلْمٌ مَا كُنْتُ سَمِعْتُهُ وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَذْكُرُونَ أَنَّ النَّاسَ إِلَّا مَنْ ذَكَرَتْ عَائِشَةُ مِمَّنْ كَانَ يُهِلُّ بِمَنَاةَ كَانُوا يَطُوفُونَ كُلُّهُمْ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَلَمَّا ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ فِي الْقُرْآنِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَطُوفُ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ فَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا فَهَلْ عَلَيْنَا مِنْ حَرَجٍ أَنْ نَطَّوَّفَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ الْآيَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَأَسْمَعُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا فِي الَّذِينَ كَانُوا يَتَحَرَّجُونَ أَنْ يَطُوفُوا بِالْجَاهِلِيَّةِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالَّذِينَ يَطُوفُونَ ثُمَّ تَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بِهِمَا فِي الْإِسْلَامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرْ الصَّفَا حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا ذَكَرَ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1643