امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن عیسیٰ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عمرو بن الحارث نے خبر دی از محمد بن عبدالرحمٰن بن نوفل القرشی، انہوں نے عروہ بن الزبیر سے سوال کیا (کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح حج کیا تھا؟) عروہ نے بتایا کہ
بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، پس مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ آنے کے بعد سب سے پہلے جس کام سے ابتداء فرمائی، وہ یہ تھا کہ آپ نے وضوء کیا، پھر آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا، پھر یہ حج عمرہ نہیں ہوا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حج کیا، پس انہوں نے جو کام سب سے پہلے کیا وہ بیت اللہ کا طواف تھا، پھر یہ حج عمرہ نہیں ہوا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی طرح کیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حج کیا، پس میں نے دیکھا کہ جس چیز سے انہوں نے ابتداء کی، وہ بیت اللہ کا طواف تھا، پھر یہ حج عمرہ نہیں ہوا، پھر حضرت معاویہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے طواف کیا، پھر میں نے اپنے والد حضرت الزبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سو انہوں نے (بھی) جس کے ساتھ ابتداء کی وہ بیت اللہ کا طواف تھا، پھر یہ حج عمرہ نہیں ہوا، پھر میں نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار (بھی) اسی طرح کرتے تھے، پھر یہ حج عمرہ نہیں بنا، پھر سب کے آخر میں، میں نے حضرت ابن عمر کو دیکھا‘ پھر انہوں نے بھی حج کو توڑ کر اسے عمرہ نہیں قرار دیا‘ اور یہ ہیں حضرت ابن عمر جو ان کے یہاں موجود ہیں‘ یہ لوگ ان سے سوال کیوں نہیں کرتے‘ اور جتنے پہلے لوگ گزرے ہیں ان میں سے کسی نے حج کو توڑ کر عمرہ نہیں قرار دیا‘ وہ بیت اللہ میں جہاں اپنے قدم رکھتے ہیں تو بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں‘ پھر وہ احرام نہیں کھولتے اور تحقیق یہ ہے کہ میں نے اپنی امی اور خالہ کو دیکھا ہے‘ وہ مکہ آ کر جس چیز کے ساتھ ابتداء کرتی تھیں‘ وہ یہ تھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرتی تھیں‘ پھر وہ احرام نہیں کھولتی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ الْقُرَشِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِثْلُ ذَلِكَ ثُمَّ حَجَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَرَأَيْتُهُ أَوَّلُ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ مُعَاوِيَةُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارَ يَفْعَلُونَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ آخِرُ مَنْ رَأَيْتُ فَعَلَ ذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُضْهَا عُمْرَةً وَهَذَا ابْنُ عُمَرَ عِنْدَهُمْ فَلَا يَسْأَلُونَهُ وَلَا أَحَدٌ مِمَّنْ مَضَى مَا كَانُوا يَبْدَءُونَ بِشَيْءٍ حَتَّى يَضَعُوا أَقْدَامَهُمْ مِنْ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَا يَحِلُّونَ وَقَدْ رَأَيْتُ أُمِّي وَخَالَتِي حِينَ تَقْدَمَانِ لَا تَبْتَدِئَانِ بِشَيْءٍ أَوَّلَ مِنْ الْبَيْتِ تَطُوفَانِ بِهِ ثُمَّ إِنَّهُمَا لَا تَحِلَّانِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1641