Sahih Al Bukhari 1635

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسحاق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں خالد نے حدیث بیان کی از خالد الحذاء از عکرمہ از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، وہ بیان کرتے ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی سبیل پر آئے، آپ نے پانی مانگا تو حضرت عباس نے کہا: اے فضل! اپنی امی کے پاس جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ان کے پاس سے پانی لاؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے (اسی سے) پانی پلاؤ، حضرت عباس نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ اس پانی میں اپنے ہاتھ ڈال رہے ہیں، آپ نے فرمایا: مجھے اسی میں سے پلاؤ‘ آپ نے اس سبیل سے پانی پیا‘ پھر آپ زمزم پر آئے وہاں لوگ کنویں سے پانی کھینچ کھینچ کر نکال رہے تھے‘ آپ نے فرمایا: تم یہ عمل کرتے رہو تم نیک عمل کر رہے ہو‘ پھر فرمایا: اگر مجھے یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تم مغلوب ہو جاؤ گے تو میں (اونٹ سے) اترتا اور کندھے پر رسی رکھ کر پانی کھینچتا‘ آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ خَالِدٍ الحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى، فَقَالَ العَبَّاسُ: يَا فَضْلُ، اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ مِنْ عِنْدِهَا، فَقَالَ: اسْقِنِي، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ أَيْدِيَهُمْ فِيهِ، قَالَ: اسْقِنِي، فَشَرِبَ مِنْهُ، ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ يَسْقُونَ وَيَعْمَلُونَ فِيهَا، فَقَالَ: اعْمَلُوا فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ قَالَ: لَوْلاَ أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ، حَتَّى أَضَعَ الحَبْلَ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي: عَاتِقَهُ، وَأَشَارَ إِلَى عَاتِقِهِ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1635