امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اصبغ نے حدیث بیان کی از ابن وہب‘ انہوں نے کہا: مجھے عمرو نے خبر دی از محمد بن عبد الرحمن‘ اس کا میں نے عروہ سے ذکر کیا‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ میں) آئے تو جس چیز کے ساتھ آپ نے سب سے پہلے ابتداء کی‘ وہ یہ تھی کہ آپ نے وضوء کیا‘ پھر آپ نے طواف کیا‘ پھر (اس طواف) سے عمرہ نہیں ہوا‘ پھر حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے اسی طرح حج کیا‘ پھر عروہ نے کہا: میں نے اپنے والد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا‘ انہوں نے بھی جو کام سب سے پہلے کیا وہ طواف تھا‘ پھر میں نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار بھی اسی طرح کرتے تھے‘ اور مجھ سے میری والدہ (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا کہ انہوں نے اور ان کی بہن حضرت عائشہ اور حضرت زبیر نے اور فلاں فلاں نے عمرہ کا احرام باندھا‘ پھر جب انہوں نے حجر اسود کی تعظیم کر لی (اور صفا اور المروۃ کی سعی کر لی اور سر منڈالیا یا بال تراش لیے) تو اس وقت انہوں نے احرام کھول دیا۔
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،، ذَكَرْتُ لِعُرْوَةَ، قَالَ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ أَوَّلَ، شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ حِينَ قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ تَوَضَّأَ، ثُمَّ طَافَ، ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً، ثُمَّ حَجَّ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ـ رضى الله عنهما ـ مِثْلَهُ، ثُمَّ حَجَجْتُ مَعَ أَبِي الزُّبَيْرِ ـ رضى الله عنه ـ فَأَوَّلُ شَىْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ، ثُمَّ رَأَيْتُ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ يَفْعَلُونَهُ، وَقَدْ أَخْبَرَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا أَهَلَّتْ هِيَ وَأُخْتُهَا وَالزُّبَيْرُ وَفُلاَنٌ وَفُلاَنٌ بِعُمْرَةٍ، فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا.
Reference: Sahih Al Bukhari 1615