امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں یحیٰی نے حدیث بیان کی از عبیداللہ از نافع از ابن عمر رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ
میں نے ان دو رکنوں (حجر اسود اور رکن یمانی) کی تعظیم کبھی ترک نہیں کی‘ سختی میں نہ آسانی میں‘ جب سے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کی تعظیم کرتے ہوئے دیکھا ہے‘ عبیداللہ نے کہا: میں نے نافع سے پوچھا: کیا حضرت ابن عمر ان دو رکنوں کے درمیان عام رفتار سے چلتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں! وہ عام رفتار سے چلتے تھے تا کہ ان کی تعظیم کرنا آسان ہو۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ مَا تَرَكْتُ اسْتِلاَمَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ فِي شِدَّةٍ وَلاَ رَخَاءٍ، مُنْذُ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَلِمُهُمَا. قُلْتُ لِنَافِعٍ أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ قَالَ إِنَّمَا كَانَ يَمْشِي لِيَكُونَ أَيْسَرَ لاِسْتِلاَمِهِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1606