امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے خبر دی از والد خود کہ
حضرت عمر بن الخطاب نے حجر اسود سے فرمایا: سن! اللہ کی قسم! میں ضرور جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے، نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے، اگر میں نے یہ نہ دیکھا ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے بوسا دیا ہے تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر حضرت عمر نے اس کو بوسہ دیا، پھر کہا: ہمیں اب رمل کی کیا ضرورت ہے، ہم صرف مشرکین کو دکھانے کے لیے رمل کرتے تھے، اب اللہ نے ان کو ہلاک کر دیا ہے، پھر کہا: جس کام کو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ہے ہم اس کو چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لِلرُّكْنِ أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لأَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اسْتَلَمَكَ مَا اسْتَلَمْتُكَ. فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ قَالَ فَمَا لَنَا وَلِلرَّمَلِ إِنَّمَا كُنَّا رَاءَيْنَا بِهِ الْمُشْرِكِينَ، وَقَدْ أَهْلَكَهُمُ اللَّهُ. ثُمَّ قَالَ شَىْءٌ صَنَعَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلاَ نُحِبُّ أَنْ نَتْرُكَهُ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1605