امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن کثیر نے حدیث بیان کی‘ انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از الاعمش از ابراہیم از عابس بن ربیعہ از حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘
وہ حجر اسود کے پاس آئے‘ پس اس کو بوسا دیا‘ پھر کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے تو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع دے سکتا ہے اور اگر میں نے یہ نہ دیکھا ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے بوسا دیتے تھے تو میں تجھے بوسا نہ دیتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى الْحَجَرِ الأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ، فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لاَ تَضُرُّ وَلاَ تَنْفَعُ، وَلَوْلاَ أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1597