امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی از شعبہ، انہوں نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ
عرینہ کے کچھ لوگوں کو مدینہ راس نہیں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی کہ وہ صدقہ کی اونٹنیوں کے پاس جائیں اور ان کا دودھ اور ان کا پیشاب پیئیں، سو انہوں نے چرواہوں کو قتل کر دیا اور اونٹنیوں کو ہنکا کر لے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلوایا، سو ان کو لایا گیا، پھر ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھیری گئیں اور ان کو پتھریلی زمین میں ڈال دیا گیا، وہ دانتوں سے پتھر کاٹ رہے تھے۔
قتاده کی متابعت ابو قلابہ، حمید اور ثابت نے کی ہے از حضرت انس رضی اللہ عنہ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ نَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ اجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ، فَرَخَّصَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَاسْتَاقُوا الذَّوْدَ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأُتِيَ بِهِمْ، فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ، وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ يَعَضُّونَ الْحِجَارَةَ. تَابَعَهُ أَبُو قِلاَبَةَ وَحُمَيْدٌ وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1501