امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں سعید بن ابی مریم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن وہب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے یونس بن یزید نے خبر دی از الزہری از سالم بن عبداللہ از والد خود رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا:
جس زمین کو بارش نے سیراب کیا اور چشموں نے سیراب کیا یا اس زمین نے خود اپنی رگوں سے پانی لے لیا، اس میں عشر ہے اور جس زمین کو کنویں کے ڈولوں سے سیراب کیا گیا اس میں نصف عشر ہے۔
امام بخاری نے کہا: یہ حدیث پہلی حدیث کی تفسیر ہے کیونکہ پہلی حدیث یعنی حضرت ابوسعید کی حدیث میں یہ بیان نہیں کیا گیا تھا کہ جس زمین کو بارش سیراب کرے اس میں عشر ہے اور اس میں زکوۃ کی مقدار بیان کی گئی ہے اور اضافہ مقبول ہوتا ہے اور حدیث مفسر مبہم پر راجح ہوتی ہے، جب اس کو ثقہ راوی بیان کریں جیسا کہ حضرت الفضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے، پس حضرت بلال کے قول پر عمل کیا گیا ہے اور حضرت الفضل کے قول کو ترک کر دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالْعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا الْعُشْرُ، وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا تَفْسِيرُ الأَوَّلِ لأَنَّهُ لَمْ يُوَقِّتْ فِي الأَوَّلِ ـ يَعْنِي حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ ـ وَفِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ الْعُشْرُ وَبَيَّنَ فِي هَذَا وَوَقَّتَ، وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ، وَالْمُفَسَّرُ يَقْضِي عَلَى الْمُبْهَمِ إِذَا رَوَاهُ أَهْلُ الثَّبَتِ، كَمَا رَوَى الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمْ يُصَلِّ فِي الْكَعْبَةِ. وَقَالَ بِلاَلٌ قَدْ صَلَّى. فَأُخِذَ بِقَوْلِ بِلاَلٍ وَتُرِكَ قَوْلُ الْفَضْلِ.
Reference: Sahih Al Bukhari 1483