امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن غریر الزہری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی از والد خود از صالح بن کیسان از ابن شہاب انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے خبر دی از والد خود انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کو چند چیزیں عطا کیں اور میں بھی ان لوگوں میں بیٹھا ہوا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک شخص کو چھوڑ دیا اور اس کو عطا نہیں کیا حالانکہ وہ میرے نزدیک بہت پسندیدہ شخص تھا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہو کر چپکے سے کہا: آپ فلاں شخص کو کیوں نہیں عطا فرما رہے، اللہ کی قسم! میں اس کو مومن گمان کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: یا وہ مسلم ہو، حضرت سعد بن ابی وقاص نے کہا: میں تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر اس کے متعلق جو میرا گمان تھا اس نے مجھے مجبور کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص کو کیوں نہیں دے رہے، اللہ کی قسم! میں اس کو مومن گمان کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: یا مسلم، حضرت سعد نے کہا: پس میں تھوڑی دیر خاموش رہا، پھر اس کے متعلق جو مجھے یقین تھا اس نے مجھے مجبور کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ فلاں شخص کو کیوں نہیں عطا فرما رہے، اللہ کی قسم! میں اس کو مومن گمان کرتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: یا مسلم، پھر آپ نے فرمایا: بے شک میں کسی شخص کو عطا کرتا ہوں اور اس کا غیر مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس خوف سے کہ اس کو منہ کے بل دوزخ میں گرا دیا جائے گا۔
اور از والد خود از صالح از اسماعیل بن محمد، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے یہ حدیث سنی ہے، پس انہوں نے اپنی حدیث میں یہ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر میری گردن اور کندھے کے درمیان مارے، پھر فرمایا: اے سعد! ادھر آؤ! سنو! بے شک میں کسی شخص کو عطا کرتا ہوں۔ امام بخاری نے کہا: سورۃ الشعراء میں جو ”فکبکبوا“ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے: انہیں منہ کے بل گرا دیا گیا اور سورۃ الملک میں جو ”مكبًّا“ کا لفظ ہے، وہ ”اکب“ سے ماخوذ ہے، ”اکب“ فعل لازم ہے یعنی اوندھا گرا، اور اس کا فعل متعدی ”کب“ ہے کہا جاتا ہے: ”کبّہ اللہ لوجھہ“، یعنی اللہ نے اس کو منہ کے بل گرا دیا اور ”کببتہ“ میں نے اس کو منہ کے بل گرا دیا۔ امام بخاری نے کہا: صالح بن کیسان، عمرو بن الزہری سے بڑے تھے، ان کی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ قَالَ فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا قَالَ فَسَكَتُّ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ فِيهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا قَالَ أَوْ مُسْلِمًا يَعْنِي فَقَالَ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ وَعَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ بِهَذَا فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَجَمَعَ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي ثُمَّ قَالَ أَقْبِلْ أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ فَكُبْكِبُوا قُلِبُوا فَكُبُّوا مُكِبًّا أَكَبَّ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِعْلُهُ غَيْرَ وَاقِعٍ عَلَى أَحَدٍ فَإِذَا وَقَعَ الْفِعْلُ قُلْتَ كَبَّهُ اللَّهُ لِوَجْهِهِ وَكَبَبْتُهُ أَنَا قال أبو عبد الله: صالح بن كيسان أكبر من الزهري، وهو قد أدرك ابن عمر
Reference: Sahih Al Bukhari 1478