امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں معاذ بن فضالہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی از یحییٰ از ہلال بن ابی میمونہ انہوں نے کہا: ہمیں عطاء بن یسار نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ
ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، ہم بھی آپ کے گرد بیٹھ گئے، تو آپ نے فرمایا: مجھے اپنے بعد جس چیز کا تم پر خطرہ ہے وہ یہ ہے کہ تم پر دنیا کی تروتازگی اور زینت کھول دی جائے گی۔ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا اچھی چیز سے بھی برائی پیدا ہو گی؟ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر اس شخص سے کہا گیا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہے ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے بات نہیں کر رہے؟ پھر ہم نے غور سے دیکھا تو آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، پھر آپ نے اپنے چہرے سے پسینہ پونچھا، پس فرمایا: وہ سوال کرنے والا کہاں ہے؟ گویا کہ آپ کو اس کا سوال پسند آیا، پس آپ نے فرمایا: اچھی چیز برائی کا سبب نہیں ہو سکتی، دیکھو! فصل بہار گھاس اگاتی ہے (یعنی وہ اچھی چیز ہے) لیکن وہ کبھی جانور کو مار دیتی ہے یا مارنے کے قریب کر دیتی ہے (اور یہ بری چیز ہے جو اچھی چیز سے ظاہر ہوتی ہے) تاہم جو جانور سبزہ چرتے ہیں حتیٰ کہ ان کی دونوں کوکھیں پھول تن جاتی ہیں اور وہ سورج کی طرف منہ کر کے لید کرتے ہیں اور پیشاب کرتے ہیں اور چرتے ہیں، بے شک یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے، پس وہ کیسا اچھا مسلمان مالک ہے جو اس مال سے مسکین اور یتیم اور مسافر کو کھلاتا ہے یا جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور جو شخص ناحق مال لیتا ہے وہ اس شخص کی مثل ہے جو کھاتا ہے اور سیر نہیں ہوتا اور وہ مال اس کے خلاف قیامت کے دن گواہی دے گا۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى الْمِنْبَرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ إِنِّي مِمَّا أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِي مَا يُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا وَزِينَتِهَا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ مَا شَأْنُكَ تُكَلِّمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُكَلِّمُكَ فَرَأَيْنَا أَنَّهُ يُنْزَلُ عَلَيْهِ قَالَ فَمَسَحَ عَنْهُ الرُّحَضَاءَ فَقَالَ أَيْنَ السَّائِلُ وَكَأَنَّهُ حَمِدَهُ فَقَالَ إِنَّهُ لَا يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ وَإِنَّ مِمَّا يُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ أَوْ يُلِمُّ إِلَّا آكِلَةَ الْخَضْرَاءِ أَكَلَتْ حَتَّى إِذَا امْتَدَّتْ خَاصِرَتَاهَا اسْتَقْبَلَتْ عَيْنَ الشَّمْسِ فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ وَرَتَعَتْ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَنِعْمَ صَاحِبُ الْمُسْلِمِ مَا أَعْطَى مِنْهُ الْمِسْكِينَ وَالْيَتِيمَ وَابْنَ السَّبِيلِ أَوْ كَمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ مَنْ يَأْخُذُهُ بِغَيْرِ حَقِّهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ وَيَكُونُ شَهِيدًا عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
Reference: Sahih Al Bukhari 1465