Sahih Al Bukhari 1462

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے زید نے خبر دی از عیاض بن عبداللہ از حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ یا عیدالفطر میں عیدگاہ کی طرف گئے، پھر واپس آئے تو لوگوں کو وعظ کیا اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پس فرمایا: اے لوگو! صدقہ کرو، پھر آپ کا خواتین پر گزر ہوا تو آپ نے فرمایا: اے عورتوں کی جماعت! صدقہ کیا کرو کیونکہ میں نے تم میں سے اکثر کو دوزخ والیاں پایا ہے‘ انہوں نے پوچھا: وہ کس وجہ سے؟ یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: تم لعنت بہت کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نافرمانی کرتی ہو، میں نے عقل اور دین کی کمی والی تم میں سے کوئی ایسی عورت نہیں دیکھی جو سمجھ دار مرد کی عقل کو ضائع کرنے والی ہو‘ اے عورتوں کی جماعت! پھر آپ واپس چلے گئے، پھر جب آپ گھر پہنچے تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب آئیں، وہ آپ سے اجازت طلب کرتی تھیں، پس عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! یہ زینب ہیں‘ آپ نے پوچھا: کون سی زینب ہیں؟ پس بتایا گیا: یہ حضرت ابن مسعود کی بیوی ہیں‘ آپ نے فرمایا: ہاں! ان کو اجازت دے دو‘ پس ان کو اجازت دی گئی‘ انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے آج صدقہ کرنے کا حکم فرمایا تھا اور میرے پاس زیورات ہیں‘ پس میں نے ان کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ہے‘ پس حضرت ابن مسعود کا یہ خیال ہے کہ میں جن پر ان زیورات کو صدقہ کروں، ان میں وہ اور ان کی اولاد زیادہ مستحق ہیں‘ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا، تمہارا خاوند اور اس کی اولاد ان میں زیادہ مستحق ہیں جن پر تم صدقہ کرو گی۔

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ هُوَ ابْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ فَقُلْنَ وَبِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ زَيْنَبُ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقِيلَ امْرَأَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ نَعَمْ ائْذَنُوا لَهَا فَأُذِنَ لَهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَ الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ لِي فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ

Grade:

Reference: Sahih Al Bukhari 1462