امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے ہیں کہ
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں کے باغ کے لحاظ سے مال دار تھے اور ان کا سب سے زیادہ پسندیدہ باغ بیرحاء میں تھا اور وہ مسجد (نبوی) کے سامنے تھا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کا میٹھا پانی پیتے تھے‘ حضرت انس نے کہا: جب یہ آیت نازل ہوئی: تم اس وقت تک ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔ (آل عمران: ۹۲) تو حضرت ابوطلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: تم اس وقت تک ہرگز نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔ (آل عمران: ۹۲) اور میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیرحاء کا باغ ہے اور یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے‘ میں اس کی نیکی اور اللہ کے نزدیک اس کے ذخیرہ کی امید رکھتا ہوں‘ پس یا رسول اللہ! اس کو وہاں خرچ کیجئے جہاں اللہ تعالیٰ آپ کو بتائے‘ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑو! یہ نفع آور مال ہے‘ یہ نفع آور مال ہے‘ (آپ نے دو بار فرمایا) اور تم نے جو کہا وہ میں نے سن لیا اور میری رائے یہ ہے کہ تم یہ باغ اپنے رشتہ داروں کو دے دو‘ پس حضرت ابوطلحہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا‘ پھر حضرت ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے رشتہ داروں میں اور اپنے عم زادوں میں تقسیم کر دیا۔
عبداللہ بن یوسف کی متابعت روح نے کی ہے‘ اور یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل نے امام مالک سے ”رایح“ کی روایت کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُسَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ الأَنْصَارِ بِالْمَدِينَةِ مَالًا مِنْ نَخْلٍ، وَكَانَ أَحَبُّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءَ، وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ المَسْجِدِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَاءٍ فِيهَا طَيِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: {لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ آل عمران: قَامَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ: لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ آل عمران وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ، أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ، فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ» فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ، تَابَعَهُ رَوْحٌ، وَقَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَإِسْمَاعِيلُ: عَنْ مَالِكٍ «رَايِحٌ
Reference: Sahih Al Bukhari 1461